MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میرے بدن میں تھی تری خوشبوئے پیرہن

میرے بدن میں تھی تری خوشبوئے پیرہنشب بھر مرے وجود میں مہکا ترا بدن ہوں اپنے ہی ہجوم تمنا میں اجنبیمیں اپنے ہی دیار نفس میں جلا وطن سب پتھروں پہ نام لکھے تھے رفیقوں کےہر زخم سر ہے سنگ ملامت پہ خندہ زن اب دشت بے اماں ہی میں شاید ملے پناہگھر کی کھلی

میرے بدن میں تھی تری خوشبوئے پیرہن Read More »

کیا ہوا ہم پہ جو اس بزم میں الزام رہے

کیا ہوا ہم پہ جو اس بزم میں الزام رہےصاحب دل تو جہاں بھی رہے بدنام رہے کوئی تقریب تو ہو دل کے بہلنے کے لئےتو نہیں ہے تو ترا ذکر ترا نام رہے ہم کو تو راس ہی آئی کسی کمسن کی وفاہائے وہ لوگ محبت میں جو ناکام رہے اس ارادے سے اٹھایا

کیا ہوا ہم پہ جو اس بزم میں الزام رہے Read More »

خیال ہجر مسلسل میں آئے ہیں کیا کیا

خیال ہجر مسلسل میں آئے ہیں کیا کیامری وفا کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا نہ صرف حسن کی معصومیت پہ تھے الزامخلوص عشق پہ بھی حرف آئے ہیں کیا کیا جنوں کے نام پہ شورش کی تہمتیں رکھ کرخرد نے خود بھی تو فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا اس اک نظر سے بظاہر جو

خیال ہجر مسلسل میں آئے ہیں کیا کیا Read More »

اس چھوٹے سے شہر میں کب تک چھپا رہے گا آخر وہ

اس چھوٹے سے شہر میں کب تک چھپا رہے گا آخر وہیہیں کہیں پہ ڈھاتا ہوگا کوئی نیا من مندر وہ آگ سی خصلت ہوا طبیعت بس یہ ہی اوصاف بچےپانی مٹی جیسے بھول کے آیا کہاں عناصر وہ نا ممکن تھا ہم دونوں میں کاروبار محبت کامیرا تھا ایمان وفا پر اور وفا کا

اس چھوٹے سے شہر میں کب تک چھپا رہے گا آخر وہ Read More »

غیر لگتا رہا سگا بھی کچھ

غیر لگتا رہا سگا بھی کچھکوئی اپنا مگر ہوا بھی کچھ اے مرے دل میں عمر بھر تیریصرف سنتا رہا کہا بھی کچھ انکساری ادب محبت بھیمجھ میں سب ہے تو ہے انا بھی کچھ اپنی تقدیر کے لکھے کو سببس مٹاتے رہے مٹا بھی کچھ کچھ گنہ گار تو میں ہوں لیکنہے مخالف مرے

غیر لگتا رہا سگا بھی کچھ Read More »

کبھی جو معرکہ خوابوں سے رت جگوں کا ہوا

کبھی جو معرکہ خوابوں سے رت جگوں کا ہواعجیب سلسلہ آنکھوں سے آنسوؤں کا ہوا جلا کے چھوڑ گیا تھا جو طاق دل میں کبھیکسی نے پوچھا نہ کیا حال ان دیوں کا ہوا لکھا گیا ہے مرا نام دشمنوں میں سداشمار جب بھی کبھی میرے دوستوں کا ہوا مذاق اڑاتے تھے آندھی سے پہلے

کبھی جو معرکہ خوابوں سے رت جگوں کا ہوا Read More »

ہم سفر زیست کا سورج کو بنائے رکھا

ہم سفر زیست کا سورج کو بنائے رکھااپنے سائے سے ہی قد اپنا بڑھائے رکھا شعلۂ یاد کو لپٹائے رکھا دامن سےاس بہانے سے تجھے اپنا بنائے رکھا لوگ آنکھوں سے ہی اندازۂ غم کرتے ہیںہم نے آنکھوں میں ترا وصل سجائے رکھا اک یہی تو مرا ہم راز تھا تنہائی کادرد کو دل کی

ہم سفر زیست کا سورج کو بنائے رکھا Read More »

لوگوں میں دیکھ بھال کی عادت نہیں رہی

لوگوں میں دیکھ بھال کی عادت نہیں رہییا آئنوں کی شہر میں قیمت نہیں رہی مانا کوئی نباہ کی صورت نہیں رہیلیکن نہیں کہ تجھ سے محبت نہیں رہی یوں بھی رہائی کا کوئی امکاں نہیں رہاپہلی سی آرزو میں بھی شدت نہیں رہی ورنہ کوئی تو آتا مرا حال پوچھنےشاید کسی کو میری ضرورت

لوگوں میں دیکھ بھال کی عادت نہیں رہی Read More »

ہوا کے حوصلے زنجیر کرنا چاہتا ہے

ہوا کے حوصلے زنجیر کرنا چاہتا ہےوہ میری خواہشیں تصویر کرنا چاہتا ہے نظر جس سے چرا کر میں گزرنا چاہتی ہوںوہ موسم ہی مجھے تسخیر کرنا چاہتا ہے وصال دید کو آنکھیں چھپانا چاہتی ہیںمگر دل واقعہ تحریر کرنا چاہتا ہے مزاج باد و باراں آشنا ہے شوق لیکننئے دیوار و در تعمیر کرنا

ہوا کے حوصلے زنجیر کرنا چاہتا ہے Read More »

طاق جاں میں تیرے ہجر کے روگ سنبھال دیے

طاق جاں میں تیرے ہجر کے روگ سنبھال دیےاس کے بعد جو غم آئے پھر ہنس کے ٹال دیے کب تک آڑ بنائے رکھتی اپنے ہاتھوں کوکب تک جلتے تیز ہواؤں میں بے حال دیے وہی مقابل بھی تھا میرا سنگ راہ بھی تھاجس پتھر کو میں نے اپنے خد و خال دیے زرد رتوں

طاق جاں میں تیرے ہجر کے روگ سنبھال دیے Read More »