MOJ E SUKHAN

اک حرف شوق لب پہ ہے اور التجا کے ساتھ

اک حرف شوق لب پہ ہے اور التجا کے ساتھ
میں اک نئے سفر پہ ہوں اپنی انا کے ساتھ

میں نے عبادتوں کو محبت بنا دیا
آنکھیں بتوں کے ساتھ رہیں دل خدا کے ساتھ

کس قحط اعتبار سے گزرے ہیں اہل دل
رنگ وفا بھی اڑ گیا رنگ حنا کے ساتھ

میرا وجود حرف تقاضا بنا ہوا
مہر قبول اس کے لبوں پر حیا کے ساتھ

گل چہرہ لوگوں سے تھا مرا بھی معاملہ
آوارہ میں بھی ہو گیا موج صبا کے ساتھ

نا مستجاب اتنی دعائیں ہوئیں کہ پھر
میرا یقیں بھی اٹھ گیا رسم دعا کے ساتھ

گھر یاد آ رہا تھا چلے آئے ہیں مگر
ہم اپنے سر پہ لائے ہیں صحرا اٹھا کے ساتھ

آبادیوں کی خیر منانے کا وقت ہے
جنگل کی آگ پھیل رہی ہے ہوا کے ساتھ

سرشار صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم