کسی سے ہاتھ کسی سے نظر ملاتے ہوئے
کسی سے ہاتھ کسی سے نظر ملاتے ہوئےمیں بجھ رہی ہوں روا داریاں نبھاتے ہوئے کسی کو میرے دکھوں کی خبر بھی کیسے ہوکہ میں ہر ایک سے ملتی ہوں مسکراتے ہوئے عجیب خوف ہے اندر کی خامشی کا مجھےکہ راستوں سے گزرتی ہوں گنگناتے ہوئے کہاں تک اور میں سمٹوں کہ عمر بیت گئیدل
کسی سے ہاتھ کسی سے نظر ملاتے ہوئے Read More »