MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کسی سے ہاتھ کسی سے نظر ملاتے ہوئے

کسی سے ہاتھ کسی سے نظر ملاتے ہوئےمیں بجھ رہی ہوں روا داریاں نبھاتے ہوئے کسی کو میرے دکھوں کی خبر بھی کیسے ہوکہ میں ہر ایک سے ملتی ہوں مسکراتے ہوئے عجیب خوف ہے اندر کی خامشی کا مجھےکہ راستوں سے گزرتی ہوں گنگناتے ہوئے کہاں تک اور میں سمٹوں کہ عمر بیت گئیدل

کسی سے ہاتھ کسی سے نظر ملاتے ہوئے Read More »

آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے

آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئےشوق کلام و ذوق تماشا لیے ہوئے دل لے کے خود کو رہتے ہیں کیا کیا لیے ہوئےشیشے وہی تو ہیں مری دنیا لیے ہوئے محرومیوں پہ دل کی مٹا جا رہا ہوں میںہے خاک تیرا نقش کف پا لیے ہوئے تاریکی فضا کا شکایت گزار ہوںسینے میں

آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے Read More »

محفل عشق میں جب نام ترا لیتے ہیں

محفل عشق میں جب نام ترا لیتے ہیںپہلے ہم ہوش کو دیوانہ بنا لیتے ہیں روز اک درد تمنا سے نیا لیتے ہیںہم یونہی زندگیٔ عشق بڑھا لیتے ہیں دیکھتے رہتے ہیں چھپ چھپ کے مرقع تیراکبھی آتی ہے ہوا بھی تو چھپا لیتے ہیں رنگ بھرتے ہیں وفا کا جو تصور میں ترےتجھ سے

محفل عشق میں جب نام ترا لیتے ہیں Read More »

یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی

یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دیکہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی سنا تھا قصہ خواں کوئی نیا قصہ سنائے گاہمارے منہ پہ ظالم نے ہماری داستاں رکھ دی خلوص دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہناوہیں کعبہ سرک آیا جبیں ہم

یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی Read More »

نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی

نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگیکسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگی تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوںنظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی مزہ آ جائے گا محشر میں کچھ سننے سنانے کازباں ہوگی ہماری اور کہانی آپ کی ہوگی یہی عالم رہا پردہ

نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی Read More »

غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے

غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھےایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزومیں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے یہ نماز عشق ہے کیسا ادب کس کا ادباپنے پائے ناز پر کرنے بھی دے سجدا مجھے کہہ کے سویا ہوں

غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے Read More »

شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں

شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میںمیں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میں کفنائے باغباں مجھے پھولوں کے ہار میںکچھ تو برا ہو دل مرا اب کی بہار میں گندھوا کے دل کو لائے ہیں پھولوں کے ہار میںیہ ہار ان کو نذر کریں گے بہار میں نچلا رہا نہ

شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں Read More »

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میںاک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں دنیا کرے تلاش نیا جام جم کوئیاس کی جگہ نہیں مرے جام سفال میں آزردہ اس قدر ہوں سراب خیال سےجی چاہتا ہے تم بھی نہ آؤ خیال میں دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہےانسان خواب دیکھ رہا ہے

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں Read More »

اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا

اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملاعرفان غم ہوا مجھے اپنا پتا ملا جب دور تک نہ کوئی فقیر آشنا ملاتیرا نیاز مند ترے در سے جا ملا منزل ملی مراد ملی مدعا ملاسب کچھ مجھے ملا جو ترا نقش پا ملا خود بین و خود شناس ملا خود نما ملاانساں کے بھیس

اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا Read More »

ہمہ تن گوش اک زمانہ تھا

ہمہ تن گوش اک زمانہ تھامیرے لب پر ترا فسانہ تھا کاش دل ہی ذرا ٹھہر جاتاگردشوں میں اگر زمانہ تھا ہم تھے اور اعتماد فصل بہارشاخ شاخ اپنا آشیانہ تھا وہ بہاریں بھی ہم پہ گزری ہیںجب قفس تھا نہ آشیانہ تھا دل کی امیدواریاں نہ گئیںاس کرم کا کوئی ٹھکانہ تھا صبح سے

ہمہ تن گوش اک زمانہ تھا Read More »