MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

باغ میں جوشِ بہار آخر یہاں تک آ گیا

باغ میں جوشِ بہار آخر یہاں تک آ گیابڑھتے بڑھتے شعلہ گُل آشیاں تک آ گیا اک جہاں اس حادثہ سے بے خرب ہے اور یہاںدل میں ڈوبا نشترغم اور جاں تک آ گیا اس کے آگے اب ایر کارواں کام ہیگرتا پڑتا میں سواد کارواں تک آگیا لاکھ منزل سے ہوں آگے پھر ی

باغ میں جوشِ بہار آخر یہاں تک آ گیا Read More »

منزلوں کو نظر میں رکھا ہے

منزلوں کو نظر میں رکھا ہےجب قدم رہ گزر میں رکھا ہے اک ہیولیٰ ہے گھر خرابی کا!ورنہ کیا خاک گھر میں رکھا ہے ہم نے حسن ہزار شیوہ کوجلوہ جلوہ نظر میں رکھا ہے چاہیئے صرف ہمت پروازباغ تو بال و پر میں رکھا ہے حرم و دیر سے الگ ہم نےابھی اک سجدہ

منزلوں کو نظر میں رکھا ہے Read More »

سب نے مجھ ہی کو در بدر دیکھا

سب نے مجھ ہی کو در بدر دیکھابے گھری نے مرا ہی گھر دیکھا بند آنکھوں سے دیکھ لی دنیاہم نے کیا کچھ نہ دیکھ کر دیکھا کہیں موج نمو رکی تو نہیںشاخ سے پھول توڑ کر دیکھا خود بھی تصویر بن گئی نظریںایک صورت کو اس قدر دیکھا ہم نے اس نے ہزار شیوہ

سب نے مجھ ہی کو در بدر دیکھا Read More »

کسی مسکین کا گھر کھلتا ہے

کسی مسکین کا گھر کھلتا ہےیا کوئی زخم نظر کھلتا ہے دیکھنا ہے کہ طلسم ہستیکس سے کھلتا ہے اگر کھلتا ہے داؤ پر دیر و حرم دونوں ہیںدیکھیے کون سا گھر کھلتا ہے پھول دیکھا ہے کہ دیکھا ہے چمنحسن سے حسن نظر کھلتا ہے میکشوں کا یہ طلوع اور غروبمے کدہ شام و

کسی مسکین کا گھر کھلتا ہے Read More »

دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیں

دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیںکوچۂ یار میں ہم کب سے صدا دیتے ہیں روز خوشبو تری لاتے ہیں صبا کے جھونکےاہل گلشن مری وحشت کو ہوا دیتے ہیں منزل شمع تک آسان رسائی ہو جائےاس لیے خاک پتنگوں کی اڑا دیتے ہیں سوئے صحرا بھی ذرا اہل خرد ہو آؤکچھ بہاروں کا پتا

دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیں Read More »

نفس کی زد پہ ہر اک شعلۂ تمنا ہے

نفس کی زد پہ ہر اک شعلۂ تمنا ہےہوا کے سامنے کس کا چراغ جلتا ہے ترا وصال تو کس کو نصیب ہے لیکنترے فراق کا عالم بھی کس نے دیکھا ہے ابھی ہیں قرب کے کچھ اور مرحلے باقیکہ تجھ کو پا کے ہمیں پھر تری تمنا ہے تابش دہلوی

نفس کی زد پہ ہر اک شعلۂ تمنا ہے Read More »

تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا

تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہادل میں ترے وہ ذوق محبت نہیں رہا پھر نغمہ ہائے قم تو فضا میں ہیں گونجتےتو ہی حریف ذوق سماعت نہیں رہا آئیں کہاں سے آنکھ میں آتش چکانیاںدل آشنائے سوز محبت نہیں رہا گل ہائے حسن یار میں دامن کش نظرمیں اب حریص گلشن جنت نہیں رہا شاید

تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا Read More »

ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا

ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملامگر جو تو نہ ملا زیست کا مزا نہ ملا حیات شوق کی یہ گرمیاں کہاں ہوتیںخدا کا شکر ہمیں نالۂ رسا نہ ملا ازل سے فطرت آزاد ہی تھی آوارہیہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا یہ کائنات کسی کا غبار راہ سہیدلیل

ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا Read More »

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجے

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجےیہ زندگی ہے تو پھر زندگی کو کیا کیجے رکا جو کام تو دیوانگی ہی کام آئینہ کام آئے تو فرزانگی کو کیا کیجے یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملامگر سرشت کی آوارگی کو کیا کیجے کسی کو دیکھ کے اک موج لب

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجے Read More »

حسرت انتظار یار نہ پوچھ

حسرت انتظار یار نہ پوچھ ہائے وہ شدت انتظار نہ پوچھ رنگ گلشن دم بہار نہ پوچھ وحشت قلب بے قرار نہ پوچھ صدمۂ عندلیب زار نہ پوچھ تلخ انجامئ بہار نہ پوچھ غیر پر لطف میں رہین ستم مجھ سے آئین بزم یار نہ پوچھ دے دیا درد مجھ کو دل کے عوض ہائے

حسرت انتظار یار نہ پوچھ Read More »