MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمہ تن گوش اک زمانہ تھا

ہمہ تن گوش اک زمانہ تھا
میرے لب پر ترا فسانہ تھا

کاش دل ہی ذرا ٹھہر جاتا
گردشوں میں اگر زمانہ تھا

ہم تھے اور اعتماد فصل بہار
شاخ شاخ اپنا آشیانہ تھا

وہ بہاریں بھی ہم پہ گزری ہیں
جب قفس تھا نہ آشیانہ تھا

دل کی امیدواریاں نہ گئیں
اس کرم کا کوئی ٹھکانہ تھا

صبح سے پہلے بجھ گیا تابشؔ
ایک دل ہی چراغ خانہ تھا

تابش دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم