MOJ E SUKHAN

کسی مسکین کا گھر کھلتا ہے

کسی مسکین کا گھر کھلتا ہے
یا کوئی زخم نظر کھلتا ہے

دیکھنا ہے کہ طلسم ہستی
کس سے کھلتا ہے اگر کھلتا ہے

داؤ پر دیر و حرم دونوں ہیں
دیکھیے کون سا گھر کھلتا ہے

پھول دیکھا ہے کہ دیکھا ہے چمن
حسن سے حسن نظر کھلتا ہے

میکشوں کا یہ طلوع اور غروب
مے کدہ شام و سحر کھلتا ہے

چھوٹی پڑتی ہے انا کی چادر
پاؤں ڈھکتا ہوں تو سر کھلتا ہے

بند کر لیتا ہوں آنکھیں تابشؔ
باب نظارہ مگر کھلتا ہے

تابش دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم