MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وحشی تھے مگر بوئے گل کی طرح سے جہاں میں ہم

وحشی تھے مگر بوئے گل کی طرح سے جہاں میں ہم
نکلے تو پھر کے آئے نہ اپنے مکاں میں ہم

شیدائے روئے گل نہ ہیں شیدائے قد سرو
صیاد کے شکار ہیں اس بوستاں میں ہم

نکلی لبوں سے آہ کہ گردوں نشانہ تھا
گویا کہ تیر جوڑے ہوئے تھے کماں میں ہم

آلودۂ گناہ ہے اپنا ریاض بھی
شب کاٹتے ہیں جاگ کے مغ کی دکاں میں ہم

ہمت پس فنا سبب ذکر خیر ہے
مردوں کا نام سنتے ہیں ہر داستاں میں ہم

آتشؔ سخن کی قدر زمانے سے اٹھ گئی
مقدور ہو تو قفل لگائیں دہاں میں ہم

حیدر علی آتش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم