MOJ E SUKHAN

دل سے ترا خیال نہ جائے تو کیا کروں

دل سے ترا خیال نہ جائے تو کیا کروں
میں کیا کروں کوئی نہ بتائے تو کیا کروں

امید دل نشیں سہی دنیا حسیں سہی
تیرے بغیر کچھ بھی نہ بھائے تو کیا کروں

دل کو خدا کی یاد تلے بھی دبا چکا
کم بخت پھر بھی چین نہ پائے تو کیا کروں

دن ہو کہ رات ایک ملاقات کی ہے بات
اتنی سی بات بھی نہ بن آئے تو کیا کروں

جو کچھ بنا دیا ہے ترے انتظار نے!
اب سوچتا ہوں تو ادھر آئے تو کیا کروں

دیدہ وران بت کدہ اک مشورہ تو دو
کعبہ جھلک یہاں بھی دکھائے تو کیا کروں

اپنی نفی تو فلسفی جی قتل نفس ہے
کہیے کوئی یہ جرم سجھائے تو کیا کروں

یہ ہائے ہائے مضحکہ انگیز ہے تو ہو
دل سے اٹھے زبان جلائے تو کیا کروں

میں کیا کروں میں کیا کروں گردان بن گئی
میں کیا کروں کوئی نہ بتائے تو کیا کروں

اخبار سے مری خبر مرگ اے حفیظؔ
میرا ہی دوست پڑھ کے سنائے تو کیا کروں

حفیظ جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم