زور مٹی کی جسارت میں روانی بھر تھا
غزل زور مٹی کی جسارت میں روانی بھر تھا عمر کا قصہ فقط ایک کہانی بھر تھا یاد کرتے ہیں مگر درد سے عاری رہ کر عشق جیسے کہ ہمیں صرف نشانی بھر تھا شعریات اب کے زمانے کے مطابق تھے نئے شعر پہلے سا وہی لفظ و معانی بھر تھا ہم نے ہجرت کے […]
زور مٹی کی جسارت میں روانی بھر تھا Read More »