MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مری طرح کا کوئی شخص مر گیا مجھ میں

غزل مری طرح کا کوئی شخص مر گیا مجھ میں ترے وجود کا احساس بھر گیا مجھ میں عجیب گرد رہ شوق جم گئی لب پر عجیب ذوق سفر سا ٹھہر گیا مجھ میں کسی پرند کی چیخوں نے سنگ باری کی سکوت شام کا شیشہ بکھر گیا مجھ میں ہوائے درد چلی دل کی […]

مری طرح کا کوئی شخص مر گیا مجھ میں Read More »

اپنے گرنے کی خبر تک نہیں پائی میں نے

غزل اپنے گرنے کی خبر تک نہیں پائی میں نے آخری دوڑ میں وہ جان لگائی میں نے سانس کو سانس ہی مرنے نہیں دیتی ہے یہاں کوششیں کر کے بہت دیکھ لیں بھائی میں نے وقت ہی وہ ہے کہ مجرم مجھے سمجھا جائے کچھ نہیں ہوگا اگر دی بھی صفائی میں نے تیری

اپنے گرنے کی خبر تک نہیں پائی میں نے Read More »

اکیلا میں ہی نہیں ہجر کی سواری میں

غزل اکیلا میں ہی نہیں ہجر کی سواری میں کچھ اور لوگ بھی شامل ہیں شب گزاری میں ندی سے کہہ دو ادھر تشنگی بلا کی ہے یہ سوکھ جائے گی صحرا کی آبیاری میں سپاہ شام نگاہوں کو مت اٹھا لینا علی کا شیر ہے خیموں کی پاسداری میں کٹے درختوں کا میں احتجاج

اکیلا میں ہی نہیں ہجر کی سواری میں Read More »

اس کے ہونٹوں پہ بہ انداز غزل جاؤں گا

غزل اس کے ہونٹوں پہ بہ انداز غزل جاؤں گا لفظ ہوں اس لیے آواز میں ڈھل جاؤں گا کیا غضب آگ دہکتی ہے ترے سینے میں تجھ سے میں بات بھی کر لوں گا تو جل جاؤں گا جس طرح دوڑ رہا ہوں مجھے اب لگتا ہے اپنی منزل سے بہت دور نکل جاؤں

اس کے ہونٹوں پہ بہ انداز غزل جاؤں گا Read More »

اس ٹھہراؤ سے پہلے بتائیں کیسے رہتے تھے

غزل اس ٹھہراؤ سے پہلے بتائیں کیسے رہتے تھے ہم دریا تھے اپنی موج میں بہتے رہتے تھے اس کے غلط رویے پر چپ رہنا پڑتا تھا لڑ سکتے تھے اس سے مگر ہم سہتے رہتے تھے اس نے دھوکہ دے کے بتایا دنیا کیسی ہے ورنہ ہم کیا خاک سمجھتے جیسے رہتے تھے اس

اس ٹھہراؤ سے پہلے بتائیں کیسے رہتے تھے Read More »

جب دھوپ کھلی خود کو عجب راہ میں پایا

غزل جب دھوپ کھلی خود کو عجب راہ میں پایا آگے مری پرچھائیں تھی پیچھے مرا سایا یوں رات گئے کس کو صدا دیتے ہیں اکثر وہ کون ہمارا تھا جو واپس نہیں آیا جب آخری موقع تھا کہ ساحل پہ اترتے دریا نے ہمیں اپنی طرف ایسے بلایا سب خوش ہیں تو لگتا ہے

جب دھوپ کھلی خود کو عجب راہ میں پایا Read More »

وہ جلدباز ایسے اچانک جدا ہوا

غزل وہ جلدباز ایسے اچانک جدا ہوا میں سوچ بھی نہ پایا مرے ساتھ کیا ہوا مجھ سے بہت ہی دور کوئی جا چکا ہے اور دل ہے کہ پھر امید کوئی باندھتا ہوا میری چٹان ضبط سے ٹوٹے گی دیکھنا مجھ میں ہے اس کی یاد کا دریا رکا ہوا رونا نہ دیکھ میرا

وہ جلدباز ایسے اچانک جدا ہوا Read More »

یہ سانس بھرتی ہوئی زندگی کا دکھ ہے مجھے

غزل یہ سانس بھرتی ہوئی زندگی کا دکھ ہے مجھے تمہارا اس کا اور اس کا سبھی کا دکھ ہے مجھے سمٹ گئیں کسی جنگل کی وحشتیں مجھ میں سو گھر میں ہوتے ہوئے بے گھری کا دکھ ہے مجھے بہت زیادہ اندھیروں سے بھی شکایت تھی اور ان دنوں تو بہت روشنی کا دکھ

یہ سانس بھرتی ہوئی زندگی کا دکھ ہے مجھے Read More »

جب رات کا آسیب بکھر جاتا ہے مجھ میں

غزل جب رات کا آسیب بکھر جاتا ہے مجھ میں اندر کوئی بچہ سا ہے ڈر جاتا ہے مجھ میں دل پر کسی قدموں کے نشاں تک نہیں ملتے یہ کون ہے تیزی سے گزر جاتا ہے مجھ میں پھر خود ہی بجھا دیتا ہے قندیل شب غم پھر خود ہی اچانک کہیں مر جاتا

جب رات کا آسیب بکھر جاتا ہے مجھ میں Read More »

کسی کا خیر کیا کہوں کہ دھیان تک نہیں رہا

غزل کسی کا خیر کیا کہوں کہ دھیان تک نہیں رہا میں اپنے آپ پر بھی مہربان تک نہیں رہا اس ایک لب کے معجزے میں کیا گناؤں گا تجھے یہ دیکھ میرے زخم کا نشان تک نہیں رہا تمام شہر جس سے ملنا چاہتا تھا ان دنوں میں اس سے یوں ملا کہ اس

کسی کا خیر کیا کہوں کہ دھیان تک نہیں رہا Read More »