غزل
جنوں میں عقل کی تنظیم کرنے لگتا ہوں
میں اپنی ذات کو دو نیم کرنے لگتا ہوں
میں خود کو پہلے تو اچھے سے کرتا ہوں مردہ
پھر اپنی لاش کی تجسیم کرنے لگتا ہوں
سنوار لیتا ہوں جب متن جاں کی نوک پلک
کچھ اس میں اور بھی ترمیم کرنے لگتا ہوں
میں خود کو دیکھتا ہوں اور بھی حقارت سے
جب اپنا مرتبہ تسلیم کرنے لگتا ہوں
آکاش عرش