MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جنوں میں عقل کی تنظیم کرنے لگتا ہوں

غزل

جنوں میں عقل کی تنظیم کرنے لگتا ہوں
میں اپنی ذات کو دو نیم کرنے لگتا ہوں

میں خود کو پہلے تو اچھے سے کرتا ہوں مردہ
پھر اپنی لاش کی تجسیم کرنے لگتا ہوں

سنوار لیتا ہوں جب متن جاں کی نوک پلک
کچھ اس میں اور بھی ترمیم کرنے لگتا ہوں

میں خود کو دیکھتا ہوں اور بھی حقارت سے
جب اپنا مرتبہ تسلیم کرنے لگتا ہوں

آکاش عرش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم