MOJ E SUKHAN

گھٹی کا اثر – Ghati Ka Asar

مشرقی ہو یا مغربی پَھر ماں تو آخر ماں ہی ہوا کرتی ہے ، عدنان کے گھر لوٹنے تک اُس کی والدہ کے کان دروازے کی آہٹ یا پھر گھنٹی کی آواز پر لگی رہتیں،

گھر واپسی پر عدنان ماں کو مغربی طرز پر (Hi mom) کہتے ہی اپنے کمرے میں جا کر محصور ہوجایا کرتا، اور پِھر اپنے دوستوں اور گرل فرینڈز کے ساتھ رات گئے تک چَیٹنگ میں مصروفِ ہو جاتا ، فجر کی آزان کی آواز سنتے ہی وہ سرپر تکیہ رکھ کر سو جایا کرتا ، یہ اُس کے روز کا معمول بن چکا تھا ، والدین کی جانب سے اُس کی نہ کوئی خیر خبر لینے کی سنت تھی اور نہ ہی اِس بدلے اور بےترتیب رویے پر کوئی روک ٹوک ۔

عدنان کےوالدین کی اُس کو لیکر یہ سوچ تھی کہ کہیں ہماری روک ٹوک اُس کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث نہ بن جائے ۔

اِن بے ترتیب معمولات کی بدولت جوانی میں قدم رکھنے کے بعد حرام ہو جو اُس نےکھبی ظہرانے یا عشائیے کے وقت کھانے کی میز پر والدین کے ساتھ بیٹھ کر ایک بھی نوالہ توڑا ہو ۔

عدنان کے رویے میں ایک عجیب سا باغی پن پیدا ہوچکا تھا، بات بات پے ضد اور غصہ ، وہ دن بدن بگڑتا اور چِڑ چِڑا ہوتا جارہا تھا۔

نوبت جب یہاں تک پہنچی تو اُس کے والدین کو فکر لائق ہوگئی کہ کہیں عدنان اپنے اِس رویے کی وجہ سے خدا نہ خواستہ کسی بڑی مصیبت کا شکار نہ ہو جائے ،

سیانے کہتے ہیں کہ” اب پَچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چُک گئیں کھیت “

وقت اور حالات دونوں والدین کے ہاتھوں سے تقریباً نکل چکے تھے ۔

اُن کا پورا کنبہ اُس شاہین کی مانند ہوکر رہ گیا تھا ، جس کے چونچ میں نہ شکار کی آنکھیں نوچنے کا ہنر ، نہ پروں میں طاقتِ پرواز ، نہ ہی پنچوں میں گرفت باقی رہی تھی ، اب اُن کے واسطے زیست حقیقتاً گزارنے کی بجائے گھسیٹنے کے مترادف ہوکر رہ گئی تھی ۔

عدنان مشرقیت تو درکنار مغربیت کے داٸرے سے بھی بہت آگے نکل چکا تھا ، نہ والدین کی توقیر ، نہ بڑوں کا احترام ، نہ چھوٹوں پر شفقت گویا وہ انسانیت اور جذبہ انسانیت سے مکمل طور بے نیاز ہوچکا تھا۔

اُس کی والدہ کا اُس کے کمرے میں داخل ہونا اُسے ایک آنکھ بھی نہیں بھاتا تھا ، کیوں کہ وہ والدہ کے مخل ہونے کو اپنی پرائیوسی میں مداخلت گردانا کرتا تھا ، اُس کی بیڈ ٹی اور ظہرانہ اُس کے بستر پر ملازمہ ہی پہنچا دیا کرتی تھی ، جس کا نام اسمإ تھا ، اس کی عمر بمشکل سولہ برس ہی تھی مگر دو برس قبل صُغَر سنی ہی میں اس کے کسی قریبی رشتہ دار کے ساتھ ہاتھ پیلے کردیئے گئے تھے ، جیسا کہ غریب گھرانوں میں رسم ہےلڑکیاں سن بلوغت تک پہنچتے ہی پیا گھر سدھار جاتی ہیں ،

اسمإ ہر اعتبار سے کمی و کجی سے مکمل طور پے ماورا تھی ، گو کہ رنگت تھوڑی سی سانولی پَھر تھی بڑی پرکشش اور بَلا کی خوبصورت ، جس پر نظر پڑتے ہی عدنان کا مرجھایا ہوا چہرہ یکدم کِھل اُٹھتا ، اسمإ اُس گھر میں وہ واحد ہی انسان تھی کہ وہ جب بھی چاہتی بہ آسانی عدنان کے کمرے تک رسائی حاصل کرلیا کرتی ، عدنان اُس کی معصومیت کے آٸینے میں گویا مکمل طور پے اُتر چکا تھا۔ اسمإ عدنان کو ہمیشہ چھوٹے صاحب کہہ کر ہی مخاطب کیا کرتی تھی ،

ایک تبصرہ چھوڑیں