MOJ E SUKHAN

گھٹی کا اثر – Ghati Ka Asar

دیکھو اسمإ جب مجھے اُن کی توجہ اور پیار کی اشد ضرورت تھی تو اُنہوں نے بچپن ہی میں مجھے ایک بورڈنگ اسکول میں بھیج دیا تاکہ اُن کے آرام میں کوئی خلل پیدا نہ ہو ، اور وہ آرام کے ساتھ اور پُرسکون انداز میں زیست کے مزے لوٹ سکیں ، ایک میں ہی تھا جو ہر لمحہ اُن کی توجہ حاصل کرنے کے لیئے تڑپتا بِھلکتا ،سِسَکتا ، تڑپتا اور ترستا رہا اور دردِ فراق کی ازیتیں جھیلتا رہا اگرچہ اس دوران میرے سر پے والدین کا سایہ سلامت تھا مگر ان سب کے باوجود میں یتیموں کی مانند زیست کے ایامِ شب و روز کے کرب و حسرتوں سے نبردآزما رہا

جو چیزیں میرے واسطے بنیادی اور ضروری تھیں وہ وقت پر ملی نہیں ، لہذا مجھے اُن کی توجہ اور مروتوں کا للہ اب کوئی احتیاج نہیں ۔

اِن سارے حالات و واقعات سے آشنا ہونے کے بعد اگلے ہی دن اسمإ اپنی مالکن کے پاس پہنچی اور بڑے ہی نفیس اور دھیمے لہجے میں کچھ بولنے کی اجازت طلب کرتی ہوئی کہنے لگی

بی بی جی اگر اجازت ہو تو کچھ کہنے کی جسارت کرسکتی ہوں ؟

مالکن بے نیازی سے بھرپور لہجے میں بولی

کہو سن رہی ہوں کیا بات ہے کیا کہنا چاہتی ہو ؟

جی چھوٹا منہ اور بڑی بات !

اب منہ سے کچھ پوٹو گی بھی یا پھر کھڑی کھڑی پھیلیاں بجھواتی رہو گی ؟

وہ بی بی جی ہمارے بڑے کہا کرتے ہیں کہ اللہ والوں کی اپنی ایک الگ ہی دنیا اور ایک الگ ہی شان ہوا کرتی ہے ، ہمارے پنڈ میں ایک پہاڑ ہے جس میں ایک گُھپا ہے اس میں برسوں سے ایک اللہ والا درویش مقیم ہے سوائے عیدین کے سال بھر دن میں اس کا روزہ رہتا ہے اور اس کا پورا دن تلاوتِ کلامِ اللہ میں گرزتا جاتا ہے اور اس کی راتیں زکرالہی اور نوافل میں بسر ہوا کرتی ہیں ، ہر وقت نیر بہاتے رہتے ہیں حرام ہو جو کھبی ان کے حلق سے حرام کا ایک بھی لقمہ اُترا ہو ، اس کا بیتر اس کے ظاہر کی مانند پاک و پوتر ہے ،

تپسیا اور نیک اعمال کی بدولت مالک کے ساتھ اس کے تعلقات بڑے ہی خوشگوار اور اچھے ہیں ، اور ہاں سنا ہے کہ مالک اس کی کوئی بھی دعا رد نہیں کرتا ، اُس کے وجودِ پرفیض کی برکت سے ہمارے پنڈ میں آج تک کسی نے ہسپتال یا طبیبوں کا رخ نہیں کیا ، بڑے ہی پہنچے ہوئے سرکار ہیں مالکن !

اگر برا محسوس نہ ہو تو ایک بار عدنان کو اُس کے پاس لے کر جائیے مجھے پورا بھروسہ ہے کہ اِنشائے مولا اُسے ملتے ہی اُس کی دعا اور دم و درود کی برکت سے ضرور چھوٹے صاحب کے رویے اور زندگی کے سارے معاملات میں بڑی تبدیلی آجائے گی ۔

گو کہ عدنان کی والدہ کو اسمإ کی ان باتوں پر وشواس نہیں تھا مگر معاملہ کیوں کہ بیٹے کے ساتھ جڑا ہوا تھا لہذا اس نے حامی بھر لی الغرض پتا وغیرہ پوچھ کر میاں بیوی اگلے ہی دن بابے کے پاس عدنان کو لیکر پہنچ گئے ۔

عدنان کی ماں بابا جی کو تمام تر حالات و واقعات سے آگاہ کرنے ہی والی تھی کہ بابا نے اُن دونوں کے بیتر اور ظاہر کا جاٸزہ لیتے ہی ہی مسئلے کی تہہ تک پہنچ گیا اور بنا سنے ہی حقیقت کھول کر ایک ہی لمحے میں ان کے سامنے یوں رکھ دی،

بیٹا اولاد کو پیدائش کے بعد جب پہلی ہی گھٹی حرام کی دی جائے تو والدین یا پھر اولاد یا دونوں سے خیر ہٹا دی جاتی ہے ،

اِس بچے کے ساتھ وہی معاملہ ہے اس کے تَھالُو پر گُھٹی حرام کی ہے ،

پہلے اُس کے حق میں آپ سے اولاد سے بے توجہی کی صورت میں خیر ہٹا دی گئی تھی پَھر اب مکافاتِ عمل کا چکر چل نکلا ہے اب اس کے خیر سے آپ دونوں محروم کردیئے گٸے ہو ۔

یہ سنتے ہی میاں اور بیوی دونوں کے پاؤں کے نیچے سے گویا زمین نکل گئی ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں