MOJ E SUKHAN
No Record Found
کسی سے دل لگانا ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں
زیب اس کو یہ آشوب گدائی نہیں دیتا
لب پہ فریاد نہیں دل یہ دوانہ ہی سہی
ﺑﻄﻮﺭ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﺯﮨﺪ ﻣﮯ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﻨﺎ
بدن میں اولیں احساس ہے تکانوں کا
کیسے ٹہلتا ہے چاند
چاند کے دیس میں ہے جی کا زیاں سوداگر
غمِ دل حیطہِ تحریر میں آتا ہی نہیں
کب سے ہیں اس مکان پہ تالے لگے ہوئے
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے