MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بدن میں اولیں احساس ہے تکانوں کا

غزل

بدن میں اولیں احساس ہے تکانوں کا
رفیق چھوٹ گیا ہے کہیں اڑانوں کا

 

حصار خواب میں آنکھیں پناہ لیتی ہوئی
عجب خمار سا ماحول میں اذانوں کا

 

چراغ صبح سی بجھنے لگیں مری آنکھیں
جب انتشار نہ دیکھا گیا گھرانوں کا

 

امان کہتے ہیں جس کو بس اک تصور ہے
کہ یوں ٹھہر سا گیا وقت امتحانوں کا

 

جو اس کے ہونٹوں کی جنبش میں قید تھا اشہرؔ
وہ ایک لفظ بنا بوجھ میرے شانوں کا

اقبال اشہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم