MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لب پہ فریاد نہیں دل یہ دوانہ ہی سہی

غزل

لب پہ فریاد نہیں دل یہ دوانہ ہی سہی
عشق سچا ہے مرا درد یگانہ ہی سہی

میرے احساس کو پڑھنا ہو تو آنکھوں میں پڑھو
شاعری جھوٹ سہی عشق فسانہ ہی سہی

کم سے کم کچھ تو ترے ہونے کے آثار دکھے
میرے دل میں تری یادوں کا ٹھکانہ ہی سہی

دو قدم چلنے کی عادت تو پڑے گی ان کو
میں تو خوش ہوں وہ مرے دل سے روانہ ہی سہی

مجھ کو تو اپنا سمجھ کر ہی سناتا ہے سدا
تیرے ہونٹوں پہ رقیبوں کا ترانہ ہی سہی

میرے ہمدم مرے جینے کے لئے کافی ہے
جو ترے ساتھ میں گزرا وہ زمانہ ہی سہی

وار نظروں سے تو اک بار تو کردے ظالم
دل منور کا تری آج نشانہ ہی سہی

منور جہان زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم