MOJ E SUKHAN

سانپ بھی بین بھی مداری بھی

غزل

سانپ بھی بین بھی مداری بھی
ہائے کیا بات ہے تمہاری بھی

کیسے کرتے ہو یار مائک پر
شاعری بھی دکان داری بھی

ہم ولی تو نہیں خدا سے مگر
جان پہچان ہے ہماری بھی

صرف دل کا معاملہ ہی نہیں
عشق ہے ایک ذمہ داری بھی

ہار کر پھول تیری خوشبو سے
ڈھونڈ لیتے ہیں رشتے داری بھی

وہ جو پچھلی قطار میں خوش تھا
آ گئی آج اس کی باری بھی

ہم کبھی ایک ساتھ کرتے تھے
خاکساری بھی شہ سواری بھی

آپ خاموشیاں بھی سنتے ہیں
آہ سن لیجیے ہماری بھی

فہمی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم