MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ میرے بارے میں ایسے بھی سوچتا کب تھا

غزل

وہ میرے بارے میں ایسے بھی سوچتا کب تھا
اگر میں عکس نہیں تھی وہ آئنہ کب تھا

جو جوڑ دیتا تعلق کے سب روابط کو
ہمارے بیچ کوئی ایسا سلسلہ کب تھا

وہ زینہ زینہ مرے دل میں یوں اترتا گیا
میں روک پاتی اسے مجھ میں حوصلہ کب تھا

وہ خوش گمان بہت تھا کہ میں ہوں اس کی مگر
یہ آرزو تھی فقط میرا فیصلہ کب تھا

وہ میرے ضبط کو ہر آن آزماتا رہا
میں سنگ زاد ہوں اس کو مگر پتہ کب تھا

سنا نہیں جو کہا تھا تو کیسے سمجھاتے
جو اس نے سمجھا تھا میرا وہ مدعا کب تھا

بہار بن کے وہ ملنے تو آ گیا تھا مجھے
ٹھہر بھی جائے گا یہ اس کا فیصلہ کب تھا

فرح اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم