MOJ E SUKHAN

کسی بات پہ رنج خدا کی قسم نہ ادھر سے ہوا نہ ادھر سے ہوا

غزل

کسی بات پہ رنج خدا کی قسم نہ ادھر سے ہوا نہ ادھر سے ہوا
کسی طرح کا رنج و ملال بہم نہ ادھر سے ہوا نہ ادھر سے ہوا

ہوئے یار تو راہیٔ ملک عدم یہاں روتے ہیں ان کے فراق میں ہم
کھلے کیونکہ یہ حال کہ حال رقم نہ ادھر سے ہوا نہ ادھر سے ہوا

مرے ان کے جو دل کو تھا ربط بہم یہ غلط ہے جو غیر بتاتے ہیں کم
وہی ربط ہے پہلا سا اس میں تو کم نہ ادھر سے ہوا نہ ادھر سے ہوا

ہمیں ضبط کی خو انہیں ظلم کا ڈھب گئی عمر تو اپنی اسی میں ہی سب
رہا یہ ہی معاملہ چارۂ غم نہ ادھر سے ہوا نہ ادھر سے ہوا

کبھی دل کو جگر کا ہے رنج و الم کبھی دل کا جگر کو ہے صدمۂ غم
رہا یوں ہی جدا غم و رنج و الم نہ ادھر سے ہوا نہ ادھر سے ہوا

کوئی کہتا قدیم زمانے کو ہے کوئی لے گیا اس کے حدوث پہ پے
جو تھا حق ثبوت حدوث و قدم نہ ادھر سے ہوا نہ ادھر سے ہوا

یوں ہی ہم تو ستم کش چرخ رہے اسی حال میں یار کے ظلم سہے
کبھی عیشؔ کم آہ یہ ظلم و ستم نہ ادھر سے ہوا نہ ادھر سے ہوا

حکیم آغا جان عیش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم