قلب و نظر جگر سبھی شاداں تو کیجیے
مسکان سے مجھے ذرا فرحاں تو کیجیے
نازاں ہوں جان ِ جاناں محبت ہے آپ کی
چاہت کو میری اور فروزاں تو کیجیے
دوری نہ مار ڈالے کہِیں آپ کی مجھے
سپنے مرے سجانے کا ساماں تو کیجیے
اس ہجر میں بھی درد کی لذّت ہے بےپناہ
کم بخت دل کے درد کا درماں تو کیجیے
چمکے گا نام آپ کا قرطاس پہ سدا
سلمٰی کے عشق کو ذرا عنواں تو کیجیے
سلمٰی رضا سلمٰی