MOJ E SUKHAN

کوئی پہلو بھی اب نیا نہیں ہے

غزل

کوئی پہلو بھی اب نیا نہیں ہے
بات کرنے کو کچھ بچا نہیں ہے

ہم تجھے دیکھنے کو ترسے ہیں
اور تو جان کر ملا نہیں ہے

ایک چڑیا کے آشیانے کو
شہر بھر میں کہیں جگہ نہیں ہے

سینکڑوں الوداعی سندیسے
اور وہ آج تک گیا نہیں ہے

جب بھی چاہو گے چھوڑ دو گے میاں
شاعری ہے کوئی نشہ نہیں ہے

آج بھی خیر کی خبر نہ ملی
اور آگے بھی آسرا نہیں ہے

باپ جیسا شفیق آنگن تھا
اب مرا اس سے واسطہ نہیں ہے

دل زدوں کے لیے شفا کی دعا
معجزہ ہو کوئی دوا نہیں ہے

بشریٰ مسعود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم