MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہ جانے جائے کہاں تک یہ سلسلہ دل کا

نہ جانے جائے کہاں تک یہ سلسلہ دل کا
وہ مل بھی جائے تو ملتا نہیں صلہ دل کا

برس رہی تھیں بہاریں ترس رہی تھی زمیں
سفر تمام ہوا پھول کب کھلا دل کا

کہاں ہے وہ شہ خوبی کہاں دریچۂ شب
گئے وہ دن کہ سماعت میں تھا گلہ دل کا

وہی خرابیٔ جاں کا سبب بھی ہے لیکن
قرار جاں ہے کہ یہ ہے معاملہ دل کا

اسے فسوں گر و بے مہر میں نہیں کہتا
فراق یار کا باعث ہے فاصلہ دل کا

تلاش اسی کی مسلسل اسی کو پا کر بھی
زمیں سے تا بہ فلک ہے یہ مشغلہ دل کا

کسی طلسم حجابات میں کوئی غم ہے
بھٹک رہا ہے خیالوں میں قافلہ دل کا

سید امین اشرف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم