MOJ E SUKHAN

میری آواز سے آواز ملانے والے

غزل

میری آواز سے آواز ملانے والے
ہیں کہاں شہر میں طوفان اٹھانے والے

پھر ستاروں کی چمک ماند پڑی جاتی ہے
پھر برہنہ ہوں کھڑا زخم لگانے والے

زرد شہروں میں پرندوں نے پناہیں ڈھونڈیں
سبز جنگل میں نیا جال بچھانے والے

روندتا ہے مجھے کیوں نقش قدم کی صورت
میری پہچان ہے کیا مجھ کو مٹانے والے

آپ کو مجھ سے محبت ہو الٰہی توبہ
اپنے احباب تو ہیں بات بنانے والے

اور کچھ روز یہاں ٹھہریں گے بدنام نظرؔ
پھر کہاں پاؤ گے اشعار سنانے والے

بدنام نظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم