MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

قصیدہ عشق کا ہم نے جو لکھا تھا فنا ہوکر

قصیدہ عشق کا ہم نے جو لکھا تھا فنا ہوکر
زمانے تک وہ جب پہنچا تو پہنچا مرثیہ ہوکر

زمانے کی نگاہوں نے سدا ہی سنگ باری کی
محبت میں تجھے اے دل ملا کیا آئینہ ہو کر

بھروسہ کس پہ کرلوں کیسے کرلوں اور کیوں کرلوں
صف اغیار میں شامل ہے تو بھی تو مرا ہو کر

پلٹ آئے گا اک دن دیکھ لینا وہ مری جانب
کہاں تک جائے گا أخر وہ یوں مجھ سے خفا ہو کر

کسی کو آرزو تیرے خدا کہنے سے کیا ہوگا
جو پتھر ہے وہ پتھر ہی رہے گا دیوتا ہو کر

رٸیسہ خمار آرزو

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم