MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اکیلی کیوں رہے برہن یہ بارش نے کہا مجھ سے

غزل

اکیلی کیوں رہے برہن یہ بارش نے کہا مجھ سے
بلا لے پاس تو ساجن یہ بارش نے کہا مجھ سے

تمہاری سانس مہکے گی کہ تازہ یاد بھی ہوگی
بھگونے دے مجھے آنگن یہ بارش نے کہا مجھ سے

کبھی تم ساتھ بھیگے تھے مگر مفہوم آنکھیں اب
بھگوتی ہیں ترا دامن یہ بارش نے کہا مجھ سے

سمندر کے کناروں پر چلا تھا ہم قدم لیکن
بنا وہ شخص کیوں دشمن یہ بارش نے کہا مجھ سے

ہواؤں نے ترا آنچل اڑا ڈالا ترے سر سے
بڑی مستی میں ہے ساون یہ بارش نے کہا مجھ سے

ترے ہونٹوں میں سجتی تھی ترے ساجن کے ہاتھوں سے
کبھی املی کبھی جامن یہ بارش نے کہا مجھ سے

کہیں پردیس میں ہوگا دعاؔ ساجن کو بلوا لے
نہ یوں بے کار کر جیون یہ بارش نے کہا مجھ سے

دعا علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم