MOJ E SUKHAN

پیار کرتی ہے مگر پھر بھی مکر سکتی ہے

غزل

پیار کرتی ہے مگر پھر بھی مکر سکتی ہے
کیا بھروسہ ہے کسی اور پہ مر سکتی ہے

کیا سمجھتی ہو کہ باندھا ہے مجھے بندھن میں
یہ انگوٹھی ہے مری جان اتر سکتی ہے

چھوٹ سکتی ہے ترے گاؤں کی مٹی مجھ سے
یہ قیامت بھی کسی روز گزر سکتی ہے

چاند نے جھیل کے بستر پہ جو کروٹ بدلی
چاندنی ٹوٹ کے پانی میں بکھر سکتی ہے

ہم نے بس پیار کیا نام لکھے سوچا نہیں
ڈائری پیڑ کی بدنام بھی کر سکتی ہے

عہد کم فہم کی عجلت ہے اشارہ راہبؔ
روشنی چاک پہ ظلمت کو بھی دھر سکتی ہے

عمران راہب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم