MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آنکھوں سے ہو کے دل میں وہ صورت اتر گئی

غزل

آنکھوں سے ہو کے دل میں وہ صورت اتر گئی
ممکن نہ تھی جو بات وہی بات کر گئی

کیا جانے کیا وہ غم تھا جو ہر دل کو چھو گیا
جو آنکھ بھی گئی تری محفل سے تر گئی

میرا ہی آشیاں تھا گریں جس پہ بجلیاں
میری ہی خاک تھی جو ہوا میں بکھر گئی

ٹکتی نہ تھی کسی پہ زمانے میں آج تک
دیکھا تمہیں تو پھر نہ کسی پر نظر گئی

جاتے ہوئے جہاں سے یہی سوچتے ہیں لوگ
ہائے وہ زندگی وہ جوانی کدھر گئی

دامن چھڑا کے آپ چلے تو گئے مگر
ہم کیا کہیں جو دل پہ ہمارے گزر گئی

روئے شب فراق ہم اتنا کہ اے کنولؔ
دامن نچوڑتی ہوئی اپنا سحر گئی

ڈی راج کنول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم