MOJ E SUKHAN

اور کوئی چارا نہ تھا اور کوئی صورت نہ تھی

غزل

اور کوئی چارا نہ تھا اور کوئی صورت نہ تھی
اس کے رہے ہو کے ہم جس سے محبت نہ تھی

اتنے بڑے شہر میں کوئی ہمارا نہ تھا
اپنے سوا آشنا ایک بھی صورت نہ تھی

اس بھری دنیا سے وہ چل دیا چپکے سے یوں
جیسے کسی کو بھی اب اس کی ضرورت نہ تھی

اب تو کسی بات پر کچھ نہیں ہوتا ہمیں
آج سے پہلے کبھی ایسی تو حالت نہ تھی

سب سے چھپاتے رہے دل میں دباتے رہے
تم سے کہیں کس لیے غم تھا وہ دولت نہ تھی

اپنا تو جو کچھ بھی تھا گھر میں پڑا تھا سبھی
تھوڑا بہت چھوڑنا چور کی عادت نہ تھی

ایسی کہانی کا میں آخری کردار تھا
جس میں کوئی رس نہ تھا کوئی بھی عورت نہ تھی

شعر تو کہتے تھے ہم سچ ہے یہ علویؔ مگر
تم کو سناتے کبھی اتنی بھی فرصت نہ تھی

محمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم