MOJ E SUKHAN

کبھی آہیں کبھی نالے کبھی آنسو نکلے

کبھی آہیں کبھی نالے کبھی آنسو نکلے
ان سے آغاز سخن کے کئی پہلو نکلے

یوں بھی وہ بزم تصور سے گزر جاتے ہیں
جیسے لے ساز سے یا پھول سے خوشبو نکلے

ہے اس امید پہ صیقل ہنر تیشہ زنی
سینۂ سنگ سے شاید کوئی گل رو نکلے

قصۂ دار و رسن ہی سہی کچھ بات کرو
کسی عنواں سے تو ذکر قد و گیسو نکلے

غم دوراں نے کیا اہل تمنا کا وہ حال
دشت سے جیسے ہراساں کوئی آہو نکلے

ہم جنہیں ہوشؔ تجاہل سے خطا سمجھے تھے
ناوک ناز وہ سب دل میں ترازو نکلے

ہوش ترمزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم