MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیں

غزل

اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیں
یعنی مجھے امید کا بھی آسرا نہیں

کب ہم سے بے دلوں پہ نگاہ جفا نہیں
ہم خوب جانتے ہیں کہ تو بے وفا نہیں

اے رشک پردہ سوز شکایت کی جا نہیں
وہ بزم ناز ہے دل بے مدعا نہیں

دکھلائے پھر خدا نہ وہ مایوسیوں کے دن
ہوتا تھا یہ خیال کہ ہے یا خدا نہیں

اللہ رے بے نیازیٔ آسودگان خاک
اس قرب پر کسی سے کوئی بولتا نہیں

آتی ہے ذرہ ذرہ سے آواز بازگشت
پھر بھی یہ کہہ رہا ہے ابھی کچھ کہا نہیں

وہ خود بھی دفن ہو گئی اہل وفا کے ساتھ
بے کار ڈھونڈھتا ہے جہاں میں وفا نہیں

ہے جلوہ ریز بزم تصور جمال یار
اے شوق دید اب یہ تغافل روا نہیں

جاتی ہے کوئی مجمع محشر پہ یاں نظر
وہ پردۂ ہجوم تمنا اٹھا نہیں

صدقے ترے کرم کے نہ دے زحمت سوال
کشکول ہے فقیر کا دست دعا نہیں

صیاد قید کر کے مجھے دیکھ لے ذرا
دل خوں نہ ہو تو بلبل خونیں نوا نہیں

محرومیوں سے ذوق ہے مجبوریوں سے عشق
میں کامیاب ہوں یہ مرا مدعا نہیں

وہ دیدہ ہائے شوق کہ دیکھیں ترا جمال
کس کا بہشت کچھ بھی انہیں دیکھتا نہیں

کیوں اس کے چومتے ہی نہ معراج ہو نصیب
بیخودؔ خدا کا ہاتھ ہے دست دعا نہیں

بیخود موہانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم