MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب کوئی ہاتھ سوالی نہیں رہنے دینا

اب کوئی ہاتھ سوالی نہیں رہنے دینا
یا ترا منصبِ عالی نہیں رہنے دینا

ایک اک لفظ میں بھرنی ہے لہو کی حدت
شعر تاثیر سے خالی نہیں رہنے دینا

اس نے وہ کھیل رچانا ہے یہاں راتوں رات
کوئی کردار مثالی نہیں رہنے دینا

زندہ کرنی ہے بہر طور وفا کی حرمت
میں نے اس لفظ کو گالی نہیں رہنے دینا

بعض احباب کی کوشش ہے،کسی بھی دل میں
جذبہْ خیر سگالی نہیں رہنے دینا

دلِ درویش کو دیکھا تو ہوس بول اٹھی
اس مؤذن کو بلالی نہیں رہنے دینا

دیکھنا ! اس نے ہر اک منہ میں نوالہ دے کر
خلق کو بولنے والی نہیں رہنے دینا

سید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم