MOJ E SUKHAN

کبھی پیروں سے آنکھوں تک چبھن محسوس ہوتی ہے

غزل

کبھی پیروں سے آنکھوں تک چبھن محسوس ہوتی ہے
کبھی یہ زندگی مجھ کو چمن محسوس ہوتی ہے

مسافت نے مسافر سے کہا تو تھک رہا ہے کیوں
تھکن محسوس کرنے سے تھکن محسوس ہوتی ہے

تو پھر میں سوچتا ہوں روح کی پاکیزگی کیا ہے
محبت جب مجھے اپنا بدن محسوس ہوتی ہے

بلند و بالا لگتی ہے کبھی یہ آسماں جتنی
کبھی یہ چھت مجھے اپنا کفن محسوس ہوتی ہے

وہاں مٹی تلے میں ہائے کیسے سانس کھینچوں گا
مجھے تازہ ہوا میں بھی گھٹن محسوس ہوتی ہے

نہ آنکھوں میں وہ پہلے سا کوئی فوارہ اٹھتا ہے
نہ سینے میں وہ پہلی سی جلن محسوس ہوتی ہے

یہ دنیا پہلے بھی خود میں مگن محسوس ہوتی تھی
یہ دنیا آج بھی خود میں مگن محسوس ہوتی ہے

عمران شمشاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم