MOJ E SUKHAN

جب اچانک مرے پہلو سے مرا یار اٹھا

غزل

جب اچانک مرے پہلو سے مرا یار اٹھا
درد سینے میں اٹھا اور کئی بار اٹھا

زندگی بوجھ نہ بن جائے تن آسانی سے
اپنے رستے میں کبھی خود کوئی دیوار اٹھا

صرصر وقت سے غافل تھا تو اے کبر نژاد
گر گئی خاک زمیں پر تری دستار اٹھا

وہم نظارہ میں ہے عافیت دیدہ و دل
بھول کر بھی نہ کبھی پردۂ اسرار اٹھا

جس سے ہو جائیں مرے چاہنے والے تقسیم
ایسی دیوار نہ کوئی مرے معمار اٹھا

خوف تادیب سے مظلوموں پہ رویا نہ گیا
شام مقتل میں کوئی بھی نہ عزادار اٹھا

دور تک پھیلا ہوا دشت بلا ہے باہر
اپنی محفل سے نہ مجھ کو مرے دل دار اٹھا

ناز بردار ہنر ہو گئے رخصت کب کے
اب بساط سخن و نغمہ و اشعار اٹھا

سامنے تیرے زر افشاں ہے نئی صبح امید
اپنی پلکوں کو ذرا دیدۂ خوں بار اٹھا

کل فراستؔ تھا یہاں مجمع یاراں ترے ساتھ
اب اسی شہر میں تنہائی کے آزار اٹھا

سید فراست رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم