MOJ E SUKHAN

بجھتا چلا ہے شعلہ دل داغدار کا

غزل

بجھتا چلا ہے شعلہ دل داغدار کا
اب کوئی دم میں کوچ ہے شمع مزار کا

ہے ایک طرح شعلہ دل داغدار کا
بجھتا نہیں چراغ ہماری مزار کا

دل کی شکستگی پس مردن بھی ہے عیاں
شق سو جگہ سے سنگ ہے میری مزار کا

نام آوروں کو ایسا فلک نے مٹا دیا
ملتا نہیں نشاں بھی اب ان کی مزار کا

دود جگر کو جب نہ ملی جا جہان میں
پروانہ بن گیا مری شمع مزار کا

کھینچوں اگر میں قبر میں اک آہ آتشیں
سرمہ بسان طور ہو پتھر مزار کا

مٹنے سے اس کے نام و نشاں خلق سے مٹے
رکھا ہے نام لوح طلسم مزار کا

ساتوں فلک ہیں ظلم کو کیا کم کہ بعد مرگ
اک اور آسمان ہو گنبد مزار کا

ہم مر گئے ہیں عشق میں اک سبز رنگ کے
گنبد زمردی ہو ہماری مزار کا

مد نظر یہ ہے کہ مٹائیں نشاں تلک
سرمہ بنا رہے ہیں وہ سنگ مزار کا

پڑھنے لگے وہ فاتحہ میری سمجھ کے قبر
پایا کہیں نشاں جو کسی کے مزار کا

کہہ دو یہ دوستوں سے بنائیں نہ کچھ نشاں
بس ہے یہی نشان ہماری مزار کا

روئے گا یہ بھی شمع کی صورت تمام عمر
ہنسنا نہیں ہے خوب چراغ مزار کا

دم بھر کو شامیانہ لحد پر وہ ہو گیا
اٹھا بگولا کوئی جو خاک مزار کا

کی جستجو کہاں نہ کہاں دوستوں نے پر
پایا کہیں نشاں نہ ہماری مزار کا

اللہ رے اپنے طالع خوابیدہ کا اثر
سبزہ بھی سو رہا ہے ہماری مزار کا

کیسے یہ جھونکے باد مخالف کے چل گئے
گل کر دیا چراغ ہماری مزار کا

کی سوز دل سے مر کے جو اک آہ آتشیں
مثل چنار جل گیا تختہ مزار کا

وہ بے وفا بھی رونے لگا آ کے قبر پر
تعویذ با اثر ہے ہماری مزار کا

اٹھ اٹھ کے بیٹھ بیٹھ گیا ناتواں کی طرح
اٹھا کبھی غبار جو خاک مزار کا

سوز دروں سے سنگ لحد تک چٹک گیا
سبزہ ہرا ہو خاک ہماری مزار کا

اللہ کیا ہے تیرہ و تاریک میری قبر
ظلمت ہے نام کاکل شمع مزار کا

روتے ہیں ہر لحد سے لپٹ کر وہ زار زار
ملتا نہیں نشاں جو ہماری مزار کا

جل جائیں گے غریب پتنگے ادھر ادھر
روشن کرو چراغ نہ میری مزار کا

اب پوچھتے ہیں آپ کہ فاخرؔ گزر گیا
باقی نشاں تلک نہ رہا جب مزار کا

فاخر لکھنوئی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم