MOJ E SUKHAN

تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگی

تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگی
جسم سے اپنے کبھی سایہ جدا ہوتا نہیں

اس طرح فریاد کرنے کو کلیجہ چاہئے
اب کوئی گلشن میں میرا ہم نوا ہوتا نہیں

وہ محبت آفریں دیتا ہے حسب ظرف عشق
پھر کسی سے بھی طلب گار وفا ہوتا نہیں

اک تخیل ہے کہ جس میں محو ہے میرا دماغ
اک تصور یہ جو آنکھوں سے جدا ہوتا نہیں

سعیٔ فہم ذات باری اور یہ محدود عقل
جس کا حاصل کچھ بھی حیرت کے سوا ہوتا نہیں

اشرف المخلوق کہتے ہیں اسی مجبور کو
جس کا کوئی کام بے دست دعا ہوتا نہیں

جتنے ارماں دل میں تھے مخمورؔ سب موجود ہیں
ایک بھی تو اپنے مرکز سے جدا ہوتا نہیں

مخمور دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم