MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

فراہم جس قدر عشرت کے ساماں ہوتے جاتے ہیں

فراہم جس قدر عشرت کے ساماں ہوتے جاتے ہیں
سکون روح سے محروم انساں ہوتے جاتے ہیں

کبھی طرز تغافل تھے یہی انداز محبوبی
جو اب صرف نوازش ہائے پنہاں ہوتے جاتے ہیں

شباب و حسن روز افزوں کا ان کے کچھ یہ عالم ہے
کہ ہم شرمندۂ شوق فراواں ہوتے جاتے ہیں

ابھی جامے مئے رنگیں لب لعلیں تک آیا ہے
مگر آنکھوں میں میخانے سے غلطاں ہوتے جاتے ہیں

فضائے خلد پر جیسے گھٹائیں چھائی جاتی ہوں
رخ گل رنگ پر گیسو پریشاں ہوتے جاتے ہیں

نفس کی آمد و شد کا یہ عالم ہے جدائی میں
کہ نشتر جیسے پیوست رگ جاں ہوتے جاتے ہیں

تعالیٰ اللہ فیض باغباں بسملؔ تعالیٰ اللہ
خس و خاشاک گلشن گل بہ داماں ہوتے جاتے ہیں

بسمل سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم