MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زندگی خواب بھی ہے فتنۂ بیدار بھی ہے

غزل

زندگی خواب بھی ہے فتنۂ بیدار بھی ہے
نغمہۂ امن بھی ہے نعرۂ پیکار بھی ہے

شوق نظارہ بھی ہے جلوہ گہہ یار بھی ہے
دیکھنا ہے کہ ہمیں جرأت دیدار بھی ہے

کون ہے جس کو نہیں دعوائے عرفان خودی
اس حقیقت سے مگر کوئی خبردار بھی ہے

انقلابات کا کیا غم کہ انہی کے دم سے
رونق بزم بھی ہے گرمئ بازار بھی ہے

کچھ تو خود حسن کو ہے جلوہ نمائی سے گریز
اور کچھ مصلحت طالب دیدار بھی ہے

گرمئ عشق میں دونوں ہیں برابر کے شریک
شمع کے سوز میں پروانے کا کردار بھی ہے

اپنے ماحول کی ناقدریٔ پیہم کا شکار
آج کا فن ہی نہیں آج کا فن کار بھی ہے

زندگی عشرت پیہم ہی نہیں ہے جوہرؔ
زندگی جہد مسلسل کی طلب گار بھی ہے

چندر پرکاش جوہر بجنوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم