MOJ E SUKHAN

شہر سخن عجیب ہو گیا ہے

شہر سخن عجیب ہو گیا ہے
ناقد یہاں ادیب ہو گیا ہے

جھوٹ ان دنوں اداس ہے کہ سچ بھی
پروردۂ صلیب ہو گیا ہے

گرمی سے پھر بدن پگھل رہے ہیں
شاید کوئی قریب ہو گیا ہے

آبادیوں میں ڈوب کر مرا دل
جنگل سے بھی مہیب ہو گیا ہے

کیا کیا گلے نہیں اسے وطن سے
یاورؔ کہاں غریب ہو گیا ہے

یعقوب یاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم