غزل
کن عجلتوں سے اپنی جوانی گزر گئی
آندھی سی اک اٹھی ادھر آئی ادھر گئی
دنیا کے حادثوں نے بگاڑے ہزار کام
اتنا ہوا کہ اپنی طبیعت سنور گئی
بے وجہ یہ سکون میسر نہیں مجھے
تم آ گئے تو گردش دوراں ٹھہر گئی
ہوتا ہے مصلحت کی بنا پر ہر انقلاب
آئی سحر جو بزم سے شمع سحر گئی
پایا جسے رفیق عمل ہر گناہ میں
حیراں ہوں میں کہ اب وہ جوانی کدھر گئی
ہوں خامیٔ مذاق تمنا سے شرمسار
آیا نظر نہ کچھ بھی جہاں تک نظر گئی
پابندیٔ قیود محبت کے باوجود
سو بار تجھ کو ڈھونڈنے میری نظر گئی
اے گردش مدام سنبھلنے بھی دے مجھے
اب تو کسی کی یاد بھی دل سے اتر گئی
ساحرؔ یہ قول حضرت غالبؔ کا ہے بجا
اب آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی
ساحر سیالکوٹی