MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کن عجلتوں سے اپنی جوانی گزر گئی

غزل

کن عجلتوں سے اپنی جوانی گزر گئی
آندھی سی اک اٹھی ادھر آئی ادھر گئی

دنیا کے حادثوں نے بگاڑے ہزار کام
اتنا ہوا کہ اپنی طبیعت سنور گئی

بے وجہ یہ سکون میسر نہیں مجھے
تم آ گئے تو گردش دوراں ٹھہر گئی

ہوتا ہے مصلحت کی بنا پر ہر انقلاب
آئی سحر جو بزم سے شمع سحر گئی

پایا جسے رفیق عمل ہر گناہ میں
حیراں ہوں میں کہ اب وہ جوانی کدھر گئی

ہوں خامیٔ مذاق تمنا سے شرمسار
آیا نظر نہ کچھ بھی جہاں تک نظر گئی

پابندیٔ قیود محبت کے باوجود
سو بار تجھ کو ڈھونڈنے میری نظر گئی

اے گردش مدام سنبھلنے بھی دے مجھے
اب تو کسی کی یاد بھی دل سے اتر گئی

ساحرؔ یہ قول حضرت غالبؔ کا ہے بجا
اب آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی

ساحر سیالکوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم