MOJ E SUKHAN

یہ عشق صحرا نوردی مجھے قبول نہیں

غزل

یہ عشق صحرا نوردی مجھے قبول نہیں
سو ، پیرہن پہ ذرا بھی میرے دھول نہیں
زمانے بھر کی نگاہوں میں مشتہر ہو کر
کھٹکنا دل میں رقیبوں کےبھی قبول نہیں
محبتوں میں ، نہیں ہم ادھار کے قائل
کہ اس میں کچھ کبھی حاصل نہیں حصول نہیں
کبھی کے دن ہیں بڑے تو کبھی کی ہیں راتیں
میں اپنی ہار پہ بس اس لئے ملول نہیں
یہ راہِ حق ہے میاں اور حق پرستوں کے

قدم قدم پہ بچھے خار کوئی پھول نہیں

ہجومِ شہر میں بھی "صوفیہ” ہے تنہا سی
کہ رشتے ناطے میں اسکا کوئی دخول نہیں
صوفیہ حامد خان
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم