MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ذہن میں اک دائرہ سا بن گیا ہے نور کا

ذہن میں اک دائرہ سا بن گیا ہے نور کا
ابتدائے عشق میں پہلا سفر ہے طور کا

شر کا کیسا شاخسانہ ہے خدا کے نام پر
تھی صدا اللہ کی حلقوم تھا منصور کا

نغمۂ قمری و بلبل کے فسانے ہیں بہت
کب کسی نے درد پرکھا بھول کر عصفور کا

گرم و سرد زندگی اور یہ وجود مختصر
باعث تقلید پایا حوصلہ طیفور کا

رقص کرتے جھومتے دیکھا گروہ ابلھاں
کیا مسرت اس میں پائی شور ہے ناقور کا

اس جہاں میں ابتدا سے آج تک ہر دور میں
جز محمد کون حامی ہے بھلا مزدور کا

ہاتھ خالی بے سہارا جمع کر لے زاد راہ
ثاقبؔ خستہ جگر اگلا سفر ہے دور کا

ثاقب خیرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم