ذہن میں اک دائرہ سا بن گیا ہے نور کا
ابتدائے عشق میں پہلا سفر ہے طور کا
شر کا کیسا شاخسانہ ہے خدا کے نام پر
تھی صدا اللہ کی حلقوم تھا منصور کا
نغمۂ قمری و بلبل کے فسانے ہیں بہت
کب کسی نے درد پرکھا بھول کر عصفور کا
گرم و سرد زندگی اور یہ وجود مختصر
باعث تقلید پایا حوصلہ طیفور کا
رقص کرتے جھومتے دیکھا گروہ ابلھاں
کیا مسرت اس میں پائی شور ہے ناقور کا
اس جہاں میں ابتدا سے آج تک ہر دور میں
جز محمد کون حامی ہے بھلا مزدور کا
ہاتھ خالی بے سہارا جمع کر لے زاد راہ
ثاقبؔ خستہ جگر اگلا سفر ہے دور کا
ثاقب خیرآبادی