MOJ E SUKHAN

اب اس سے اور بڑھ کر درد کا اکرام کیا ہوگا

اب اس سے اور بڑھ کر درد کا اکرام کیا ہوگا
ہوئی خاشاک میں دل پوچھتا ہے نام کیا ہوگا

مری اس ذات پر ترجیح دی غیروں کو جب تم نے
اب اس سے بڑھ کے میری ذات پر اکرام کیا ہوگا

گرانے کے لیے مجھ کو مری اپنی ہی نظروں میں
لگا ہے مجھ پہ جو الزام وہ الزام کیا ہوگا

میں دل اپنا تری تحویل میں اب دے تو دوں لیکن
میں ڈرتی ہوں نجانے اس کا اب انجام کیا ہوگا

مجھے تم مشورے اپنے سنو کل شام دے دینا
ابھی اتنا بتادو کرنا مجھ کو کام کیا ہوگا

جنوں اس کی محبت کا نہیں اترا مرے سر سے
پلائے گا مجھے وہ جام تو وہ جام کیا ہوگا

مجھے اس کے ارادوں سے بہت ڈر لگ رہا ہے اب
نجانے دل میں پالا اس نے اب ابہام کیا ہوگا

در و دیوار بھی اکتا گئے ہیں میری سنگت سے
اب اس سے اور زیادہ آدمی ناکام کیا ہوگا

جہاں پرلٹ گئے جاکر دلوں کے قافلے سارے
وہ کیسا موڑ ہوگا حلقہِ گلفام کیا ہوگا

شمیم چودھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم