MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مرے چاروں طرف اک آہنی دیوار کیوں ہے

غزل

مرے چاروں طرف اک آہنی دیوار کیوں ہے
اگر سچا ہوں میں سچ کا مقدر ہار کیوں ہے

نشاط و انبساط و شادمانی زیست ٹھہری
تو بتلائے کوئی جینا مجھے آزار کیوں ہے

مسافت زندگی ہے اور دنیا اک سرائے
تو اس تمثیل میں طوفان کا کردار کیوں ہے

جہاں سچ کی پذیرائی کے دعویدار ہیں سب
اسی بزم سخن میں بولنا دشوار کیوں ہے

یقیناً حادثے بھی جزو خاص زندگی ہیں
ہمارا شہر ہی ان سے مگر دو چار کیوں ہے

یعقوب تصور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم