MOJ E SUKHAN

اس ٹھہراؤ سے پہلے بتائیں کیسے رہتے تھے

غزل

اس ٹھہراؤ سے پہلے بتائیں کیسے رہتے تھے
ہم دریا تھے اپنی موج میں بہتے رہتے تھے

اس کے غلط رویے پر چپ رہنا پڑتا تھا
لڑ سکتے تھے اس سے مگر ہم سہتے رہتے تھے

اس نے دھوکہ دے کے بتایا دنیا کیسی ہے
ورنہ ہم کیا خاک سمجھتے جیسے رہتے تھے

اس بستی میں ایک غضب کا میلہ لگتا تھا
وہ آتی رہتی تھی ہم بھی آتے رہتے تھے

ان آنکھوں میں خوابوں والے جگنو روشن تھے
ان چہروں پہ اکثر پھول برستے رہتے تھے

دل آزاری کرنا اپنا کام تھا دنیا میں
جو کچھ بھی جی میں آ جاتا کہتے رہتے تھے

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم