MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

انا کا نشہ خودی کا خمار ٹوٹتا ہے

انا کا نشہ خودی کا خمار ٹوٹتا ہے
محبتوں میں خود اپنا حصار ٹوٹتا ہے

کوئی تو ہے جو در خیمۂ محبت پر
جبیں جھکائے بصد افتخار ٹوٹتا ہے

عجیب نشۂ احساس کی گرفت میں ہوں
ترے قریب جو آؤں خمار ٹوٹتا ہے

میں اس لہو میں سے ہوں جس کا ایک اک قطرہ
فصیل ظلم پہ دیوانہ وار ٹوٹتا ہے

قمر رضا شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم