MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے

غزل

جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے
ہنسی ضبط کرنے کو جی چاہتا ہے

جہاں عشق میں ڈوب کر رہ گئے ہیں
وہیں پھر ابھرنے کو جی چاہتا ہے

وہ ہم سے خفا ہیں ہم ان سے خفا ہیں
مگر بات کرنے کو جی چاہتا ہے

ہے مدت سے بے رنگ نقش محبت
کوئی رنگ بھرنے کو جی چاہتا ہے

بہ ایں خود سری وہ غرور محبت
انہیں سجدہ کرنے کو جی چاہتا ہے

قضا مژدۂ زندگی لے کے آئے
کچھ اس طرح مرنے کو جی چاہتا ہے

نظام دو عالم کی ہو خیر یارب
پھر اک آہ کرنے کو جی چاہتا ہے

گناہ مکرر شکیلؔ اللہ اللہ
بگڑ کر سنورنے کو جی چاہتا ہے

شکیل بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم