MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حیراں ہوں زِندگی کی انوکھی اُڑان پر

حیراں ہوں زِندگی کی انوکھی اُڑان پر
پاؤں زمین پر ہیں ، مزاج آسمان پر​

​آتا نہیں یقین کِسی کی زُبان پر
بادل کا ہو رہا ہے گماں بادبان پر​

​کِرنوں کے تِیر چلنے لگے ہیں جہان پر
بیٹھا ہوا ہے کون فلک کی مچان پر​

​یہ زخم تو مِلا تھا کِسی اور سے مجھے
کیوں شکل تیری بننے لگی ہے نِشان پر​

​اِتنے سِتم اُٹھا کے تُو زِندہ ہے کِس طرح
کِتنا یقیں کروں میں تری داستان پر​

​تصویر اُس کی میں نے سجانے کی بُھول کی
سارا جہان ٹُوٹ پڑا ہے دُکان پر​

​چھوٹا سا اِک چراغ بُجھانے کے واسطے
ٹھہری رہی ہے رات مرے سائبان پر​

​گھر سے نِکل رہا ہے کوئی اور ہی عدیم
تختی لگی ہوئی ہے کِسی کی مکان پر​

​عدیم ہاشمی​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم