MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بن گیا ہے یہاں اب خدا آدمی

بن گیا ہے یہاں اب خدا آدمی
آدمی سے جدا اب ہوا آدمی

اپنے اسلاف کی راہ کو چھوڑکر
دیکھیے کیا سے کیا ہو گیا آ دمی

اپنے ماں باپ تک کا نہیں یہ رہا
ہو گیا اس قدر سر پھرا آدمی

جھوٹ مکر و فریب اور دھوکہ دہی
کام کیا کر گیا بد نما آدمی

اک طرف عشق ہے اک طرف مامتا
اپنی ہی ذات میں بٹ چکا آدمی

آدمی نے گرائے جو بم بھیڑ پر
اپنی ہی لاش پر خوش ہوا آدمی

خودکواشرف تو تبدیل کر لےذرا
لوگ کہتے ہیں تو ہے بھلا آدمی

اشرف بابا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم