دیواریں کیا اٹھیں، ہوے آنگن جدا جدا
چرخے جدا جدا ہیں، ترنجن جدا جدا
آو سہیلیو ذرا بھیگیں ہم ایک ساتھ
اب تک کئ گزارے ہیں ساون جدا جدا
مطلوب ایک درہی سے خیرات سب کو ہے
پھیلے مگر ہیں لوگوں کے دامن جدا جدا
کیسی محبتیں ہیں یہ کیسی جدائیاں
حالت ہے ایک عشق کی ، الجھن جدا جدا
دیکھے گئے بہار کے تیور الگ الگ
ہر سبز پیڑ کا تھا ہرا پن جدا جدا
پھولوں کی باس پھر بھی گئ جنگلوں کی سمت
جنگل علاحدہ تھے تو گلشن جدا جدا
رنگ- شباب شازیہ اکبر عجیب ہے
دوشیزگی جدا ہے تو جوبن جدا جدا
شازیہ اکبر