MOJ E SUKHAN

زمیں رکی تو مجھے آسماں دکھائی دیا

زمیں رکی تو مجھے آسماں دکھائی دیا
اس آئینے میں مجھے تو کہاں دکھائی دیا

دریدہ عشق کی پوشاک پہ سجے تمغے
کہیں کہیں مجھے ان کا نشاں دکھائی دیا

میں کب کا چھوڑ چکا کارہستی ءخاموش
تری نظر سے مجھے اب جہاں دکھائی دیا

مہک رہی تھی ترے لمس سے مری دنیا
پس خیال مجھے اک گماں دکھائی دیا

عجیب عشق کدہ ہےکہ ڈھونڈ نے سے مجھے
جہاں جہاں میں گیا تو وہاں دکھائی دیا

بھٹک رہی تھی مری زندگی تجسس میں
کہ دور بستی میں اک سائباں دکھائی دیا

کسی کی آہوں سے سب خواب جل کے راکھ ہوئے
سلگتی آنکھوں میں مجھ کو دھواں دکھائی دیا

حسن رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم